غزل محسن نقوی | Ghazal by Mohsin Naqwi


غزل 
======
محسن نقوی 
---------------------
وفا میں اب یہ ہنر اختیار کر نا ہے 
وہ سچ کہے نہ کہے ، اعتبار کرنا ہے 

یہ تجھ  کو جاگتے رہنے کا شوق کب سے ہوا
مجھے تو خیر ترا انتظار کرنا ہے 

ہوا کی زد میں جلانے ہیں آنسووں کے چراغ 
کبھی یہ جشن سر_ راہ گزار کرنا ہے 

مثال _شاخ _برہنہ ، خزاں کی رت میں کبھی 
خود اپنے جسم کو بے برگ و بار کرنا ہے 

تیرے فراق میں دن کس طرح کٹیں اپنے 
کہ شغل _شب تو ستارے شمار کرنا ہے 

کبھی تو دل میں چھپے زخم بھی نمایاں ہوں 
قبا سمجھ کے بدن تار تار کرنا ہے 

خدا خبر یہ کوئی  ضد کہ شوق ہے محسن 
خود اپنی جان کے دشمن سے پیار کرنا ہے


احمد فراز کی چند بہترین غزلیں | Ghazals by Ahmad Faraz



رنجش ہی سہی دل ہی دُکھانے کے لئے آ
آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لئے آ
کچھ تو مرے پندارِ محبت کا بھرم رکھ
تُو بھی تَو کبھی مجھ کو منانے کے لئے آ
پہلے سے مراسم نہ سہی پھر بھی کبھی تَو
رسم و رہِ دنیا ہی نبھانے کیلئے آ
کس کس کو بتائیں گے جدائی کا سبب ہم
تُو مجھ سے خفا ہے تَو زمانے کے لئے آ
اک عمر سے ہوں لذتِ گریہ سے بھی محروم
اے راحتِ جاں مجھ کو رلانے کے لئے آ
اب تک دلِ خوش فہم کو تجھ سے ہیں امیدیں
یہ آخری شمعیں بھی بجھانے کے لئے آ
٭٭٭




قربتوں میں بھی جدائی کے زمانے مانگے
دل وہ بے مہر کہ رونے کے بہانے مانگے
ہم نہ ہوتے تو کسی اور کے چرچے ہوتے
خلقتِ شہر تو کہنے کو فسانے مانگے
یہی دل تھا کہ ترستا تھا مراسم کے لئے
اب یہی ترکِ تعلق کے بہانے مانگے
اپنا یہ حال کہ جی ہار چکے لٹ بھی چکے
اور محبت وہی انداز پرانے مانگے
زندگی ہم ترے داغوں سے رہے شرمندہ
اور تُو ہے کہ سدا آئینہ خانے مانگے
دل کسی حال پہ قانع ہی نہیں جانِ فرازؔؔ
مِل گئے تم بھی تو کیا اور نہ جانے مانگے
٭٭٭





جُز ترے کوئی بھی دن رات نہ جانے میرے
تُو کہاں ہے مگر دوست پرانے میرے
تُو بھی خوشبو ہے مگر میرا تجسس بے کار
برگِ آوارہ کی مانند ٹھکانے میرے
شمع کی لَو تھی کہ وہ تُو تھا مگر ہجر کی رات
دیر تک روتا رہا کوئی سرہانے میرے
خلق کی بے خبری ہے کہ مری رسوائی
لوگ مجھ کو ہی سناتے ہیں فسانے میرے
لُٹ کے بھی خوش ہوں کہ اشکوں سے بھرا ہے دامن
دیکھ غارت گرِ دل یہ بھی خزانے میرے
آج اک اور برس بیت گیا اس کے بغیر
جس کے ہوتے ہوئے ہوتے تھے زمانے میرے

----ق----

کاش تُو بھی مری آواز کہیں سُنتا ہو
پھر پکارا ہے تجھے دل کی صدا نے میرے
کاش تو بھی کبھی آ جائے مسیحائی کو
لوگ آتے ہیں بہت دل کو دُکھانے میرے
کاش اوروں کی طرح میں بھی کبھی کہہ سکتا
بات سُن لی ہے مری، آج خدا نے میرے
تُو ہے کس حال میں اے زود فراموش مرے
مجھ کو تو چھین لیا عہدِ وفا نے میرے
چارہ گر یوں تو بہت ہیں مگر اے جانِ فرازؔؔ
جز ترے اور کوئی زخم نہ جانے میرے
٭٭٭ 


نہ حریفِ جاں نہ شریکِ غم شبِ انتظار کوئی تو ہو
کسے بزمِ شوق میں لائیں ہم دلِ بے قرار کوئی تو ہو
کسے زندگی ہے عزیز اب کسے آرزوئے شبِ طرب
مگر اے نگارِ وفا طلب ترا اعتبار کوئی تو ہو
کہیں تارِ دامنِ گل ملے تو یہ مان لیں کہ چمن کھلے
کہ نشان فصلِ بہار کا سرِ شاخسار کوئی تو ہو
یہ اداس اداس سے بام و در، یہ اجاڑ اجاڑ سی رہگزر
چلو ہم نہیں نہ سہی مگر سرِ کوئے یار کوئی تو ہو
یہ سکونِ جاں کی گھڑی ڈھلے تو چراغِ دل ہی نہ بجھ چلے
وہ بلا سے ہو غمِ عشق یا غمِ روزگار کوئی تو ہو
سرِ مقتلِ شب آرزو، رہے کچھ تو عشق کی آبرو
جو نہیں عدو تَو فرازؔؔ تُو کہ نصیب دار کوئی تو ہو
٭٭٭




دل تو وہ برگِ خزاں ہے کہ ہوا لے جائے
غم وہ آندھی ہے کہ صحرا بھی اُڑا لے جائے
کون لایا تری محفل میں ہمیں ہوش نہیں
کوئی آئے تری محفل سے اُٹھا لے جائے
اور سے اور ہوئے جاتے ہیں معیارِ وفا
اب متاعِ دل و جاں بھی کوئی کیا لے جائے
جانے کب ابھرے تری یاد کا ڈوبا ہُوا چاند
جانے کب دھیان کوئی ہم کو اُڑا لے جائے
یہی آوارگیِ دل ہے تو منزل معلوم
جو بھی آئے تری باتوں میں لگا لے جائے
دشتِ غربت میں تمہیں کون پکارے گا فرازؔؔ
چل پڑو خود ہی جدھر دل کی صدا لے جائے
٭٭٭




نہ انتظار کی لذت نہ آرزو کی تھکن
بجھی ہیں درد کی شمعیں کہ سو گیا بدن
سُلگ رہی ہیں نہ جانے کس آنچ سے آنکھیں
نہ آنسوؤں کی طلب ہے نہ رتجگوں کی جلن
دلِ فریب زدہ! دعوتِ نظر پہ نہ جا
یہ آج کے قد و گیسو ہیں کل کہ دار و رسن
غریبِ شہر کسی سایۂ شجر میں نہ بیٹھ
کہ اپنی چھاؤں میں خود جل رہے ہیں سرو و سمن
بہارِ قرب سے پہلے اجاڑ دیتی ہیں
جدائیوں کی ہوائیں محبتوں کے چمن
وہ ایک رات گزر بھی گئی مگر اب تک
وصالِ یار کی لذت سے ٹوٹتا ہے بدن
پھر آج شب ترے قدموں کی چاپ کے ہمراہ
سنائی دی ہے دلِ نامراد کی دھڑکن
یہ ظلم دیکھ کہ تُو جانِ شاعری ہے مگر
مری غزل میں ترا نام بھی ہے جرمِ سخن
امیرِ شہر غریبوں کو لُوٹ لیتا ہے
کبھی بہ حیلۂ مذہب کبھی بنامِ وطن
ہوائے دہر سے دل کا چراغ کیا بجھتا
مگر فرازؔؔ سلامت ہے یار کا دامن
٭٭٭

ہم تو یوں خوش تھے کہ اک تار گریبان میں ہے
کیا خبر تھی کہ بہار اس کے بھی ارمان میں ہے
ایک ضرب اور بھی اے زندگیِ تیشہ بدست
سانس لینے کی سکت اب بھی مری جان میں ہے
میں تجھے کھو کے بھی زندہ ہوں یہ دیکھا تو نے
کس قدر حوصلہ ہارے ہوئے انسان میں ہے
فاصلے قرب کے شعلوں کو ہوا دیتے ہیں
میں ترے شہر سے دُور اور تُو مرے دھیان میں ہے
سرِ دیوار فروزاں ہے ابھی ایک چراغ
اے نسیمِ سحری! کچھ ترے امکان میں ہے
دل دھڑکنے کی صدا آتی ہے گاہے گاہے
جسےد اب بھی تری آواز مرے کان میں ہے
خلقتِ شہر کے ہر ظلم کے با وصف فرازؔؔ
ہائے وہ ہاتھ کہ اپنے ہی گریبان میں ہے
٭٭٭



خاموش ہو کیوں دادِ جفا کیوں نہیں دیتے
بسمل ہو تو قاتل کو دعا کیوں نہیں دیتے
وحشت کا سبب روزنِ زنداں تو نہیں ہے
مہر و مہ و انجم کو بجھا کیوں نہیں دیتے
اِک یہ بھی تو اندازِ علاجِ غمِ جاں ہے
اے چارہ گرو! درد بڑھا کیوں نہیں دیتے
منصف ہو اگر تم تو کب انصاف کرو گے
مجرم ہیں اگر ہم تو سزا کیوں نہیں دیتے
رہزن ہو تو حاضر ہے متاعِ دل و جاں بھی
رہبر ہو تو منزل کا پتہ کیوں نہیں دیتے
کیا بیت گئی اب کے فرازؔؔ اہلِ چمن پر
یارانِ قفس مجھ کو صدا کیوں نہیں دیتے
٭٭٭ 



سُن بھی اے نغمہ سنجِ کنجِ چمن اب سماعت کا اعتبار کسے
کون سا پیرہن سلامت ہے دیجیے دعوتِ بہار کسے
جل بجھیں دردِ ہجر کی شمعیں گھل چکے نیم سوختہ پیکر
سر میں سودائے خام ہو بھی تو کیا طاقت و تابِ انتظار کسے
نقدِ جاں بھی تو نذر کر آئے اور ہم مفلسوں کے پاس تھا کیا
کون ہے اہلِ دل میں اتنا غنی اس قدر پاس طبعِ یار کسے
کاہشِ ذوق جستجو معلوم داغ ہے دل چراغ ہیں آنکھیں
ماتمِ شہرِ آرزو کیجیے فرصتِ نغمۂ قرار کسے
کون دارائے ملکِ عشق ہُوا کس کو جاگیر چشم و زلف ملی
"خونِ فرہاد، برسرِ فرہاد" قصرِ شیریں پہ اختیار کسے
حاصلِ مشرب مسیحائی سنگِ تحقیر و مرگِ رسوائی
قامت یار ہو کہ رفعتِ دار ان صلیبوں کا اعتبار کسے
٭٭٭


عظیم داعیِ اسلام، امام حسن البناشہیدؒ از ۔۔۔۔۔۔۔ مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندویؒ

عظیم داعیِ اسلام، امام حسن البناشہیدؒ

از ۔۔۔۔۔۔۔ مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندویؒ
بشکریہ محمد الیاس رامپوری 

جب مصر کا سفر] ۱۵۹۱ئ[پیش آیا، تو مجھے اس کی شدید خواہش تھی کہ اخوان کی تحریک کا مطالعہ کروں اور اس کے متعلق براہ راست معلومات حاصل کروں۔ شیخ ]حسن البنا شہیدؒ[کے پرانے رفیقوں ان کے معتمدین اور ان کے تربیت یافتہ نوجوانوں سے ملاقات کروں اور اس عظیم الشان دعوت کی کامیابی کے اسباب معلوم کروں۔1949ءمیں شیخ کی شہادت کا واقعہ پیش آچکا تھا، لیکن میری خوش قسمتی سے اس وقت شیخ کے تمام پرانے رفقا وشرکا اور ان کے تلامذہ وحلقہ¿ احباب کے خواص موجود تھے۔ میری عربی تصنیف ماذا خسر العالم با نحاط المسلمین جو میرے سفر مصر سے چند ہی مہینے قبل شائع ہوئی تھی، اخوان کے حلقے میں کثرت سے پڑھی گئی تھی اور اخوان نے اپنی روایتی فراخ دلی اور بے تعصبی سے اس کو اپنے مخصوص تبلیغی لٹریچر میں جگہ دی تھی۔ یہ کتاب میرا ذریعہ تعارف تھی۔ پھر ہندی مسلمان ہونا اور ایک معروف ادارے سے تعلق رکھنا اخوان کے لئے (جوعالم اسلام کی وحدت اور تعارف وتعاون کے سب سے بڑے عادی ہےں) کافی وجہ کشش تھی۔
جہاں تک شیخ کے متعلق تاریخی وشخصی معلومات کا تعلق تھا، اس کے لئے سب سے مستند اور قابل اعتماد ذریعہ ان کے والد محترم شیخ احمد عبدالرحمن البنا کی ذات تھی، جنہوں نے از راہ شفقت بزرگانہ اپنے قابل فخر وذریعہ ¿ نجات فرزند کے متعلق تمام ضروری وجزوی معلومات فراہم کیں۔ ان کے علاوہ شیخ کے رفیق درس وشریک کا ر اور اخوان کے مربی استاد بہی الخولی نے بحیثیت ایک دوست، رفیق، مشاہدومعاصر کے اپنے مشاہدات معلومات اور تاثرات سنائے۔ ان دونوں بزرگوں کے علاوہ ان چند نو جوانوں سے بھی ملاقات ہوئی، جو شیخ کے معتمد خاص اور دست راست رہ چکے تھے۔ ان اصحاب سے شیخ کی زندگی اور ان کی شخصیت کے مختلف پہلوﺅں کے متعلق مستند معلومات حاصل ہوئیں اور ایسا محسوس ہوا کہ ان حضرات سے ملنے کے بعد شیخ کی زیارت سے کلی طور پر محرومی نہیں رہی۔
ان اصحاب سے جو کچھ سنا اور خود شیخ ]حسن البنا[کے جو اثرات دیکھے، اس سے اس بات کا یقین پیدا ہوا کہ ان کی شخصیت تاریخ کی ان غیر معمولی شخصیتوں میں سے تھی جن کو اللہ تعالی کسی تحریک ودعوت کو چلانے اور کسی عہد میں اسلامی انقلاب برپا کرنے کے لئے پیدا فرماتا ہے اور اس کو قیادت کی وسیع اور متنوع صلاحیتیں عطا فرماتا ہے۔ وسیع وروشن دماغ، گرم وپُر محبت ودرد مند دل، فصیح وبلیغ زبان، تسخیر کرلینے والے اخلاق، دلآویز شخصیت ، یہ ان کے عناصر ترکیبی تھے۔ میں جب اقبال کا یہ شعر پڑھتا ہوں تو بے ساختہ شیخ حسن البنا کی شخصیت آنکھوں کے سامنے آجاتی ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اقبال نے انہی کو دیکھ کر کہا ہے۔ 
نگاہ بلند، سخن دل نواز، جاں پرسوز
یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لئے
بدقسمتی سے جس زمانے میں میرا قیام مصر میں تھا، اخوان کی تحریک خلاف قانون تھی اور ان کے اجتماعات نہیں ہوسکتے تھے۔ لیکن اس اعتماد کی بنا پر جو ان کے ذمہ داروں کو میری ذات پر پیدا ہوگیا تھا، مجھے ان کی مخصوص مجلسوں میں شرکت کی عزت حاصل ہوئی۔ مجھے ان کے حالات وخیالات سننے اور اپنے ناچیز خیالات پیش کرنے کا موقع ملا۔ ایک مخصوص مجلس میں جس میں اخوان کی مجلس انتظامیہ (مکتب الارشاد) کے ارکان اور دل ودماغ شریک تھے، مجھے منضبط طورپر اپنے خیالات اور تجربات پیش کرنے کا موقع ملا۔ اخوان نے ان کی جس درجہ پذیرائی کی اس کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے کہ انہوں نے اس کو علیحدہ رسالے کی شکل میں شائع کیا اور جب تک اخوان کی تحریک دوبارہ خلاف قانون قرار نہیں دی گئی، اس کے تین ایڈیشن شائع ہوئے۔ اس رسالے کا نام ہے: ارید ان اتحدث الی الاخوان ۱ (اخوان سے دودوباتیں)۔ مجھے کسی دینی وسیاسی جماعت کے متعلق اتنی فراخ دلی اور عالی ظرفی کا تجربہ نہیں ہوسکا۔
اسی زمانہ¿ قیام میں مجھے شیخ محمد الغزالی کی معیت میں (جو اخوانی لٹریچر کے سب سے بڑے مصنف ہےں) مصر کے قصبات اور دیہاتوں میں بارہا جانے کا اتفاق ہوا۔ ہر جگہ اخوان کے دینی جوش وخروش، مہمان نوازی اور اسلام دوستی، محبت واخلاص اور بے تعصبی ووسیع النظری کے ایسے مناظر دیکھے، جو ساری عمر یادرہےں گے اور جن سے شیخ حسن البنا کی تربیت وتاثیر اور ان کی مردم گری اور سیرت سازی کا اندازہ ہوا اور معلوم ہوا کہ اس شعلہ¿ جوالہ نے کتنی ایمانی حرارت پیدا کردی ہے۔ اس تحریک کے مطالعے اور جو لوگ اس سے متعلق تھے، ان کو قریب سے دیکھنے کے بعد میں خاص طور پر جن پہلوﺅں سے متاثر ہوا وہ حسب ذیل ہےں:
۱ ۔اس تحریک نے ایک ایسی قوم اور سوسائٹی میں جومغربی تہذیب اور تمدن جدید کی خرابیوں سے پورے طورپر متاثر ہوچکی تھی اور اس سے پہلے ترکی سلطنت اور شخصی حکومت کے اثرات سے متاثررہ کر ’طبقہ¿ مترفین‘ میں شامل ہوچکی تھی، ایسی قوت عمل، جذبہ¿ سرفروشی، سادگی وجفاکشی پیدا کردی، جس کی نظیر اس زمانے میں ملنی مشکل ہے اور خود اس کے ایک رہنما اور قائد (شیخ بہی الخولی) کے الفاظ میں ایک نرم ونازک قوم الشعب الرخو الرقیق میں اس نے ایک نئی زندگی پیداکردی، اور گویا اقبال کے اس تخیل اور تمنا کو پورا کیا ع کبوتر کے تن نازک میں شاہیں کا جگر پیدا
ان کی اس قوت عمل، جذبہ¿ سرفروشی اور عقابی شان دیکھنے کے لئے استاد کامل الشریف کی کتاب الاخوان المسلمون فی حرب فلسطین کا مطالعہ کرنا چاہیے۔
۲۔ دوسری چیز جس نے مجھے متاثر کیا وہ اخوان کی محبت وگرم جوشی اور ان کے آپس کے تعلقات ہےں۔ اتنا مستحکم رشہ¿ اخلاق ومودت اور احساس اخوت ورفاقت میں نے کم دعوتوں اور جماعتوں میں دیکھا ہے۔ اخوان کی تحریک نے ایک ایسی عالمگیر برادری پیدا کردی، جس کا ہر فرد دوسرے فرد کو اپنا حقیقی بھائی سمجھتا ہے اور بغیر کسی جماعتی عصبیت وحمیت جاہلیہ کے، اس کی مدد اور حمایت کے لئے تیار رہتا ہے۔ کسی مصر ی اخبار نے ایک مرتبہ طنز کے طورپر لکھا تھا (اور میں سمجھتا ہوں کہ وہ انتہائی اعتراف ہے) کہ اگر شیخ حسن البنا کو اسکندریہ میں چھینک آجائے تو اسوان (مصر کی جنوبی سرحد) میں یرحمک اللہ کی صدائیں بلند ہوں۔ نہ صرف اپنے مرشد عام بلکہ ہررفیق جماعت کے لئے ان کا یہی جذبہ اور طرز عمل ہے۔ وہ عام طورپر ایک دوسرے سے تعارف انہی الفاظ میں کراتے ہےں: اخوک فی اللہ فلان۔ ان کے طرز عمل اور سلوک سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس اخوت فی اللہ پر عقیدہ رکھتے ہےں اور اس پر عمل کی کوشش کرتے ہےں۔
۳۔ تیسرا پہلو جس نے مجھے بہت متاثر کیا یہ ہے کہ اس تحریک کا زندگی سے قریبی تعلق ہے۔ وہ زندگی سے بچ کر نہیں نکلتی بلکہ اس پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اس کے مسائل اور مشکلات کو حل کرنے کی کوشش کرتی ہے، عوام سے اور عملی زندگی سے اس کا تعلق ہے۔ اس نے عوام کی زندگی میں دخل دیا ہے، اس کی خرابیوں کی اصلاح کی ہے اور قدم قدم پر اس کی اصلاح کی کوشش کی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس کا کامیابی، مقبولیت اور تاثیر میں اس کو بڑا دخل ہے۔
۴۔ اس کا چوتھا روشن پہلو یہ ہے کہ اس نے دینی وعلمی اختلافات سے بچ کر اپنا کام کیا۔ یہ چیز اس کے کمزور پہلوﺅں میں بھی شمار کی جاسکتی ہے۔ مگر عالم اسلام کے موجودہ دینی واخلاقی زوال، الحاد وزندقہ کے حملے اور مسلمانوں کے ذہنی انتشار کو پیش نظر رکھا جائے تو یہ ایک اسلامی دعوت کے لئے خوش قسمتی سمجھی جائے گی کہ وہ اپنا وقت اور قوت خالص اصلاحی وتعمیری کام اور اساسی دعوت کے فروغ میں لگائے۔
۵۔ اخوان کی تحریک کا سب سے کامیاب اور روشن پہلو یہ ہے کہ اس نے مصر (اور اس کی پیروی میں ممالک عربیہ) کے بڑھتے ہوئے الحاد ولادینیت کے دھارے کو روکا اور دین کے استخفاف وبے وقعتی اور ذہنی ارتداد وبغاوت کا جورجحان روز افزوں تھا اس پر اثرانداز ہوئی۔ جو لوگ مصر کی صحافت وادب سے واقف ہےں۔ وہ خوب جانتے ہےں کہ اس ملک میں دین کے خلاف ایک منظم سازش اور کوشش تھی۔ مصر کے ادیبوں اور صحافیوں، مصنفین اور باحثین، سب نے دین کے خلاف ایک محاذ بنارکھا تھا اور انقلاب فرانس کے علم برداروں کی طرح وہ پوری مصری اسلامی سوسائٹی کو اپنے ’ترقی پسند‘ ادب، اپنے شک آفریں خیالات وتحقیقات اپنے طنز وتمسخر سے ڈائنامیٹ کررہے تھے۔ اور
یُو±حِی± بَع±ضُھُم± اِلٰی بَع±ضٍ زُخ±رُفَ ال±قَو±لِ غُرُو±رًا (الانعام:۲۱۱)
”جو ایک دوسرے پر خوش آئند باتیں دھوکے اور فریب کے طور پر القا کرتے رہتے ہیں۔“
کے مصداق تھے۔اس متحدہ محاذ کے خلاف کسی دینی جماعت حتیٰ کہ از ہر تک میں آواز بلند کرنے اور اس کا مقابلہ کرنے کی جرا¿ت نہ تھی۔ اخوان کے مخالفین کو بھی اعتراف ہے کہ اخوان کی تحریک نے اس مورچے کو کمزور اور خوف زدہ کردیا۔ الحاد کی علانیہ دعوت دینے اور دین کے استخفاف کی جرا¿ت بڑے بڑے زعمائے ادب کو نہ رہی، اخوان نے غیور نوجوانوں اور صاحب حمیت مسلمانوں کا ایک ایسا لشکر پیدا کردیا کہ ملحدین کو اپنے ملحدانہ خیالات اور تصنیفات کی اشاعت اور اخبارات ورسائل کو دین واسلامی تہذیب کے ساتھ تمسخر واستہزا کی جسارت باقی نہ رہی۔ پھر اس کے ساتھ اس نے اسلام پسند ادیبوں، ناقدین اور اہل قلم اور ماہرین فن کی ایسی جماعت پیدا کی جو علمی وفنی طورپر ان ملاحدہ کا مقابلہ کرسکیں اور اسلامی ادب کو پیش کریں۔
اخوان کا یہ کارنامہ اتنا بڑا کارنا مہ ہے کہ کوئی شخص جس کے دل میں نور ایمان ہے اس کا اعتراف کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ راقم کے سامنے چونکہ ان ممالک کی سابقہ زندگی اور موجودہ دینی وفکری انقلاب ہے اور اس کو اپنے طویل قیام کی بنا پر اس کا مشاہدہ وتجربہ ہوچکا ہے کہ اخوان نے جدید نسل کے دل ودماغ کو کس طرح متاثر کیا ہے اور دین وشعائر دین کے اظہار واعلان کی کیسی جرا¿ت پیدا کردی ہے اور جو لوگ دینی عقائد وحقائق کے اظہار میں شرمندگی اور حقارت محسوس کرتے تھے اب کس طرح علانیہ منظر عام پر دینی فرائض وشعائر کو ادا کرتے ہےں اور احساس کمتری کے بجائے برتری کا احساس رکھتے ہےں۔ ان ذاتی مشاہدات وتجربات کا نتیجہ تھا کہ ہندوستان میں میری زبان سے ایک تقریر میں اخوان کے متعلق بے ساختہ یہ لفظ نکل گئے کہ: لا یحبہم الا مو¿من ولا یبغضہم الا منافق (اخوان سے اسی کو محبت ہوگی جس کے دل میں ایمان ہے اور اسی کو نفرت ہوگی جس کے دل میں نفاق ہے)۔
تاریخ اسلام میں جن جرائم اور سفاکیوں نے ملت اسلامیہ کو عظیم ترین نقصان پہنچایا اور تاریخ کا دھارا بدل دیا ان میں ایک شیخ حسن البنا کا مجرمانہ قتل ہے۔ جس نے کم سے کم مشرق وسطیٰ کو ایک مفید ترین شخصیت سے محروم اور صالح دینی انقلاب سے عرصے تک کے لئے بہت دور کردیا۔
اگر اخوان کچھ عرصہ اور عملی سیاست میں حصہ نہ لیتے اور اپنا اصلاحی ودعوتی کام پوری قوت سے جاری رکھتے تو ممالک عربیہ میں ایک اسلامی انقلاب برپا ہوجاتا اور ایک نئی زندگی پیدا ہوجاتی۔(کاروانِ زندگی، جلد اوّل، ص ۶۷۳۔۲۸۳)

کتّے۔۔پطرس بخاری

کتّے
پطرس بخاری

علم الحیوانات کے پروفیسروں سے پوچھا۔ سلوتریوں سے دریافت کیا۔ خود سر کھپاتے رہے۔ لیکن کبھی سمجھ میں نہ آیا کہ آخر کتوں کا فائدہ کیا ہے؟ گائے کو لیجئے دودھ دیتی ہے۔ بکری کو لیجئے، دودھ دیتی ہے اور مینگنیاں بھی۔ یہ کتے کیا کرتے ہیں؟ کہنے لگے کہ کتا وفادار جانور ہے۔ اب جناب وفاداری اگر اسی کا نام ہے کہ شام کے سات بجے سے جو بھونکنا شروع کیا تو لگاتار بغیر دم لےد صبح کے چھ بجے تک بھونکتے چلے گئے۔تو ہم لنڈورے ہی بھلے، کل ہی کی بات ہے کہ رات کے کوئی گیارہ بجے ایک کتے کی طبیعت جو ذرا گدگدائی تو انہوں نے باہر سڑک پر آ کر طرح کا ایک مصرع دے دیا۔ ایک آدھ منٹ کے بعد سامنے کے بنگلے میں ایک کتے نے مطلع عرض کر دیا۔ اب جناب ایک کہنہ مشق استاد کو جو غصہ آیا، ایک حلوائی کے چولہے میں سے باہر لپکے اور بھنا کے پوری غزل مقطع تک کہہ گئے۔ اس پر شمال مشرق کی طرف ایک قدر شناس کتے نے زوروں کی داد دی۔ اب تو حضرت وہ مشاعرہ گرم ہوا کہ کچھ نہ پوچھئے، کم بخت بعض تو دو غزلے سہ غزلے لکھ لائے تھے۔ کئی ایک نے فی البدیہہ قصیدے کے قصیدے پڑھ ڈالے، وہ ہنگامہ گرم ہوا کہ ٹھنڈا ہونے میں نہ آتا تھا۔ہم نے کھڑکی میں سے ہزاروں دفعہ "آرڈر آرڈر" پکارا لیکن کبھی ایسے موقعوں پر پر دھان کی بھی کوئی بھی نہیں سنتا۔ اب ان سے کوئی پوچھئے کہ میاں تمہیں کوئی ایسا ہی ضروری مشاعرہ کرنا تھا تو دریا کے کنارے کھلی ہوا میں جاکر طبع آزمائی کرتے یہ 
گھروں کے درمیان آ کر سوتوں کو ستانا کون سی شرافت ہے۔


!عید گیٹ ٹو گیدر


!عید گیٹ ٹو گیدر 
آصف اقبال

        تکثیری سماج میں رہنے بسنے والوں کے لیے لازم ہے کہ مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان آپسی محبت و الفت کا ماحول پروان چڑھائیں نیز وہ معاشرے، سماج اور ملک کے لیے کارآمد ثابت ہوں۔اسی پس منظر میں رنگ و نسل کے تنوع کی موجودگی، سماج کے لیے مفید اس وقت ثابت ہو سکتی ہے جبکہ مختلف گروہ مختلف قسم کی صلاحیتیں رکھتے ہوں اور ان گوناگوں صلاحیتوں سے پورے سماج کو فائدہ پہنچاتے ہوں۔ رنگ و نسل کے فرق کو ناپسندیدہ سمجھنا ایک غلط رجحان ہے۔ اسلام نے اس غلط رجحان اور اس پر مبنی تعصب کو ختم کیا ہے۔سید قطب لکھتے ہیں:"یہ وہ خدا پرست امت ہے جس کے ہراول دستے کی شان یہ تھی کہ اس میں عرب کے معزز خاندان کے چشم و چراغ ابوبکر شامل تھے۔ تو حبش کے بلال او روم کے صہیب اور فارس کے سلمان بھی موجود تھے۔ بعد کی نسلیں بھی ہر دور میں اسی دل نشین انداز اور حیرت انگیز نظام کے جلو میں یکے بعد دیگرے منصہ شہود پر ابھرتی رہیں۔ عقیدہ توحید اس امت کی قومیت رہی ہے، دارالاسلام اس کا وطن رہا ہے اور اللہ کی حاکمیت اس کا امتیازی شعار رہا ہے اور قرآن اس کا دستورِ حیات رہا ہے"(معالم فی الطریق۔ باب: نہم)۔مزید لکھتے ہیں :"اسلامی معاشرے ہی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس میں اجتماع کا بنیادی رشتہ عقیدے پر استوار ہوتا ہے اور اس میں عقیدہ ہی وہ سند ہوتا ہے جو کالے اور گورے اور احمر و زرد، عربی اور رومی، فارسی اور حبشی اور ان تمام اقوام کو جو روئے زمین پر آباد ہیں، ایک ہی صف میں کھڑا کر دیتا ہے، جس کا پروردگار صرف اللہ ہے"(ایضاً۔ باب:۷)۔

        اس پس منظر میں برٹانیکا ریفرنس انسائیکلوپیڈیا میں بیان کردہ اِس خیال سے اتفاق کیا جانا چاہیے کہ جہاں تک رنگ و نسل کے تنوع کا تعلق ہے، اس نوعیت کے تنوع کی موجودگی، کسی سماج کے لیے ایک مفید شے ہے۔اس کے برخلاف کثرتیت (Pluralism) کی تشریح میں برٹانیکا ریفرنس انسائیکلوپیڈا میں جو نقطہ نظر درج ہے اس کے مطابق تو سماج میں ہر قسم کا تنّوع پسندیدہ ہے۔ لیکن اسلامی نقطہ نظر کے مطابق رنگ و نسل اور قبیلہ و برادری کا تنوع تو انسانی سماجوں کے لیے مفید ہے۔ لیکن دین اور عقیدے کے اختلاف کو کوئی پسندیدہ شئے نہیں قرار دیا جا سکتا۔ خود اللہ تعالیٰ نے بعض انسانوں کے کافرانہ طرزِ عمل کو پسندیدہ نہیں قرار دیا ہے۔ بلکہ اس پر اپنی"عدم رضا" کا اظہار کیا ہے۔یہی اندازِ فکر اہل ایمان کا بھی ہونا چاہیے۔اس سیاق میں اس مقبولِ عام خیال پر غور کرنے کی ضرورت ہے جو اکثر سننے میں آتا ہے۔ "ہمارا ملک مختلف مذاہب کا گلدستہ ہے۔ اس کی رونق کے لیے اس میں مختلف قسم کے پھولوں کی موجودگی ضروری ہے۔ اگر ایک ہی طرح کے پھول ہوں تو گلدستے میں حسن نہیں آ سکتا"۔یہ خیال کثرتیت (Pluralism) کے اس مقبولِ عام مفہوم کی نمائندگی کرتا ہے جس کے مطابق دین اور عقیدے کا اختلاف و تنوع ایک پسندیدہ شئے ہے۔ لیکن اسلام کا نقط نظر یہ نہیں ہے۔ جو مسلمان دانشور (غالباً بِلا غور و فکر کے) مختلف ادیان کے وجود کو گلدستے سے تعبیر کرتے ہیں ان کو اپنے اِس خیال پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ حق اور باطل دونوں کو پھول سے تشبیہ دینا حق اور باطل کے فرق کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے۔ بطور امرِ واقعہ تو حق اور باطل دونوں کا وجود تسلیم کیا جانا چاہیے لیکن دونوں کو یکساں پسندیدہ نہیں قرار دیا جا سکتا۔(اقتباس:تکثیری سماج از ڈاکٹر محمد رفعت)۔یہ وہ وہ افکار و تصورات ہیں جن میں خصوصاً ملک عزیز ہند کی اکثریت مبتلا ہے تو وہیں دوسری جانب دیگر ممالک جہاں مسلمان کہیں اکثریت تو کہیں اقلیت کی حیثیت سے موجود ہیں، ان تمام مقاما پر ان خیالات کا اظہار بہت منظم انداز سے کیا جا رہا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی بھی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جو ان خیالات کے منفی رویوں کو سمجھنے سے قاصر ہے۔یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات مسلمان بھی ان خیالات کو فروغ دینے کا پرزور ذریعہ بن جاتے ہیں۔

عیدِ سعید کا پیغام :
        متذکرہ واقعہ،اس کے پس منظر و پیش منظر اور پھر تکثیری سماج میں مسلمانوں کی موجودگی کا لازمی تقاضہ ہے کہ وہ ان مواقع پر جبکہ وہ خوشی کا اظہار کرتے ہیں یا دوسرے الفاظ میں مسلمانوں کے تہوار جنہیں عید الفطر اور عید الالضح کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے، چاہیے کہ ان دیگر مذاہب کے لوگوں کو اپنی خوشی میں شریک کریں جو ان سے وابستہ ہیں۔چونکہ وہ ہمارے پڑوسی ہیں،آس پاس رہتے ہیں،آفس اور دیگر معاشی معاملات میں وقتاً فوقتاًوہ ہمارے ساتھ ہوتے ہیں،لازم ہے کہ ہم ان سے قربت استوار کریں۔اور فی الوقت عید سعید سے بہتر موقع کوئی اور نہیں ہو سکتا جب کہ ہم ان سے اور وہ ہم سے مزید قریب ہوں۔یہ قربت اور تعلقات ہی ہیں جو انسانوں میں جذبہ خیر خواہی اور ہمددری پیدا کرتے ہیںجس کی آج اشد ضرورت ہے۔مسلمانوں کو اس بات کا مخصوص اہتما م کرنا چاہیے کہ وہ عید گیٹ ٹو گیدر کے پروگرام منعقد کریں۔اپنے گھر پر، اپنے محلے میں یا کچھ مزید بڑے پیمانے پر۔ان مواقع پر درج ذیل باتوں کا تذکرہ لازماً کیا جانا چاہیے :

        i)      اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو ایک باپ اور ماں(حضرت  آدمؑ اور حواؑ) سے پیدا کیا ، لہذا تمام انسان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔
        ii)      اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو اپنے دین پر عمل کرنے کے لیے اور اپنی تعلیمات سے آگاہی کے لیے اپنے پیغمبر بھیجے جو اس کی ٹھیک ٹھیک تعلیمات لوگوں تک پہنچاتے تھے۔
        iii)     ان پیغمبروں کا سلسلہ پہلے انسان حضرت آدمؑ سے ہوا اور آخری پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔جن کے بعد اب کوئی پیغمبر نہیں آئے گا۔
        iv)     اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بعد قرآن حکیم اور اپنی سنت احادیث کی شکل میں چھوڑ کر گئے ہیں، ان پر عمل آوری ہی دراصل دنیا و آخرت کی نجات کا ذریعہ ہے۔
        v)      فی الوقت جن مسائل سے ہم دوچار ہیں وہ انسانوں کی انسانوں پر ظلم و زیادتی اور جبر و استبداد کی وجہ سے ہیں۔اور ان سے چھٹکارے کا ذریعہ انسانوں کے بنائے قوانین ہیں جو حقوق اللہ اور بعض مواقع پر حقوق العباد کی ادائیگی میں رکاوٹ ہیں۔
        vi)     حقوق اللہ کی ادائیگی یا وہ فرائض جو انسان پر لازم ہیں،ان ہی میں یہ رمضان المبارک کے روزے بھی ہیں۔یہ روزے انسان میں مکمل نظم و ڈسپلن برقرار رکھنے کا ذریعہ ہیں جس کے بعد اللہ کے ہر چھیوٹے اور بڑے حکم کی عمل آوری میں انسان کو آسانی ہوتی ہے۔
        vii)    اور یہ عیدِ سعید دراصل وہ انعام ہے جو ایک بندہ اپنے رب ِ اعلیٰ کے احکامات پر اور ماہ رمضان کے تمام ارکان کو ادا کرنے کے بعد حاصل کرتا ہے۔یہی وہ موقع ہے جب کہ اللہ بندے سے راضی اور بندہ اللہ سے راضی ہو جاتا ہے اور دنیا و آخرت کی تمام خوشیا ں اسے حاصل ہوتی ہیں۔

اورممکن ہو تو یہ بھی کہ :
        جن حالات سے آج ہم دوچار ہیں، اسلام اور مسلمانوں پر جس طرح تہمتیں لگائی جا رہی ہیں، بہت ہی قوت و طاقت کے ساتھ ان کے خلاف جس طرح منظم سازشیں کی جا رہی ہیں،دہشت اور خوف و ہراس جو چار سو نظر آرہا ہے وہ دراصل ان ہی لوگوں کا پیدا کردہ ہے جو خود کو امن کا علمبر دار قرار دیتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ وہ مختلف ممالک میں رہنے بسنے والے افراد، ان کی صلاحتیوں اور ذخائر پر اپنی برتری اور تسلط قائم کرنا چاہتے ہیں۔جس کی بہت واضح نذیر حالیہ عراق، افغانستان ہیں تو وہیںدوسری طرف وہ افریقی ممالک جہاں بھوک سے آج انسان بری طرح تڑپ رہا ہے لیکن کوئی ان کا پرسان حال نہیں۔یہ وہی طاقتیں ہیں جنھوں نے جاپان کے ہیروشیما پر ایٹم بم برسائے اور انسانوں کی ایک کثیر تعداد اور ان کی آنے والی آئندہ نسلوں کو مفلوج بنا دیا۔یہ وہ امن کے علمبردار ہیں جو ایک طرف جمہوریت کا راگ الاپتے ہیں تو وہیں دوسری طرف شام و مصر میں ذاتی مفاد کی آڑ میں اپنے ناپاک ایجنڈوں پر کار بند ہیں۔

لہذا :
        لازم ہے کہ ان جھوٹے دعویداروں پر یقین نہ کیا جائے۔اسلام جس امن کا علمبردار ہے اور جس کی مثالیں اس کے دور اقتدار میں بہت ہی واضح انداز میں موجود ہیں ۔لازم ہے کہ اس تعلیم اور نظام کو نافذ عمل بنایا جائے۔غربت و افلاس اور اخلاقی اقدار کی پامالی جو آج بہت نمایاں ہو چکی ہے اور جس میں ہر شخص مبتلا ہے، اس سے چھٹکارا حاصل کیا جائے۔سود پر مبنی نظام معیشت جس نے غربت کے ازالے کی بجائے اس کو مزید فروغ دیا اور اضافہ ہی کیاہے،انسانوں کے درمیان ناہمواریاں قائم کیں اور طرہ یہ کہ بھوک و افلاس کے پیمانے قائم کیے۔ اُس نظام معیشت کے خلاف آواز بلند کی جائے۔دوسری جانب اخلاقی پستی میں مبتلا معاشرہ جس نے ماﺅں ، بہنوں اور بیٹیوں کی قدر و منزلت کو ہر سطح پر پامال کیا ہے، اس سے نجات حاصل کی جائے۔اور ان دونوں ہی بنیادوں پر بھر پور چوٹ کی جائے تاکہ اسلامی معیشیت جو سود سے پاک ہے اور اسلامی معاشرہ جو اخلاقی اقدار کا علمبردار ہے اس کے فروغ میں آسانی ہو۔امن و امان قائم ہو اور دنیا میں مالک برحق کی کبریائی بیان کرنا آسان ہوجائے۔اس خالق برحق کی کبریائی جس نے انسانوں کو پیدا کیا اور ہر چیز ان کے ماتحت کر دی ۔لازم ہے کہ انسان بھی اللہ کے تابع ہو جائے ۔ تب ہی ممکن ہے کہ وہ خواب شرمندہ تعبیر ہو ں جن کی خواہش ہم اپنے دلوں میں بسائے بیٹھے ہیں۔نہیں تو خواب خواب ہی بن کر رہ جائیں گے اور یہ معاشرہ مزید گمراہیوں اور ظلالتوں میں مبتلا ہوتاچلا جائے گا۔پھر یہ ہماری بے توجہی اُس فساد الفرض کا سبب بنے گی جو ہرشخص کے لیے نقصان دہ ہے۔لازم ہے کہ قبل از وقت ہم بیدار ہو جائیں!


-- 

 

NavigationPager

Blogger Tips And Tricks|Latest Tips For Bloggers Free Backlinks

FB like

Subscribe

Snow effect